ایران کے صدر نے ہسپانوی چیئرمین سینیٹ کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے نفاذ سے اسلامی جمہوریہ ایران اور یورپی ممالک بالخصوص سپین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لئے اچھی فضا قائم ہوگئی ہے.
یہ بات صدر مملکت 'حسن روحانی' نے اتوار کے روز تہران میں سپین کے چیئرمین سینیٹ 'پیو گارسیا اسکودرو' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کے بعد ایران اور یورپی ممالک کی اقتصادی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے.
انہوں نے جوہری معاہدے کے نفاذ پر یورپی یونین کے کردار کو سراہا اور مزید کہا کہ امریکی خلاف ورزیوں کے باوجود یورپ اہم کردار نبھارہا ہے اور اس حوالے سے یورپ تعمیری مؤقف اپنایا ہے.
جوہری معاہدے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایران اور مغرب مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں.
صدر روحانی نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی طاقتیں کو چاہئے کہ جوہری معاہدے کے مفاد کے مطابق اس بات کو سمجھیں اور تحقیق بھی کریں کے اسلامی جمہوریہ ایران ہرگز جوہری ھتھیار بنانے کی راہ نہیں اپنائی ہے.
تہران اور میڈرڈ کے درمیان تعلقات کو دیرینہ اور تاریخی قرار دیتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ تمام یورپی ممالک بالخصوص سپین ایک دوست ملک کی حیثیت سے ایران جوہری معاہدے کے مثبت ثمرات سے فائدہ اٹھائیں.
انہوں نے کہا کہ ایران میں صنعت، ٹرانسپورٹیشن اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے سنہری مواقع موجود ہیں اور اس حوالے سے ایران اور سپین کے درمیان موثر اور فائدہ مند تعاون کا آغاز ممکن ہے.
اس موقع پر ہسپانوی چیئرمین سینیٹ نے خطے اور عالمی سطح میں صدر حسن روحانی کی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یقینا سپین اور دیگر یورپی ممالک ایرانی پالیسی اور تعاون کی حمایت کریں گے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور سپین دو تہذیب یافتہ اور تاریخی ملک ہیں جو ہمیشہ ایک دوسرے کے قریب اور گہرے مشترکات کے مالک ہیں.
پیو گارسیا اسکودرو نے اس امید کا اظہار کیا کہ سپین جوہری معاہدے کے ثمرات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں مشترکہ تعاون بڑھائے گا.
یاد رہے کہ ایران کے 12ویں صدر مملکت حسن روحانی کی تقریب حلف برداری گزشتہ روز تہران میں واقع پارلیمنٹ میں منعقد ہوئی جس میں ہسپانوی چیئرمین سینیٹ نے بھی شرکت کی.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲